شوکت محمود شوکت ۔۔۔ دو غزلیں

کبھی زندگی کی خواہش ، کبھی آرزو اجل کی
کبھی راس دشتِ ویراں ، کبھی جستجو محل کی

مرے سامنے سے گزرا ، نہ کیا سلام جس نے
مرے ہاتھ چومتا تھا ، ابھی بات ہے یہ کل کی

وہی کامیاب ٹھہرا ہے جہانِ تاز و تگ میں
جو کرے صمیمِ دل سے ، سدا پیروی عمل کی

یہ عجیب سانحہ ہے ، وہ مجھے بھلا چکا ہے
کبھی رکھتا تھا خبر تک ، جو مرے ہر ایک پل کی
نہ ثبات ہے کسی کو ، نہ دوام ہے کسی کو
وہ ہو خار کی کہانی، کہ ہو داستاں کنول کی

کسی سوختہ جگر نے ، مجھے عشق سے تھا روکا
کوئی قیس تھا عرب کا ، کہ سسی تھی کوئی تھل کی

میں بیانِ حسن جاناں ، کروں اس طرح سے شوکت
کبھی ذکر نظم کا ہو ، کبھی بات ہو غزل کی

۔۔۔

وہاں وہاں پہ بہاروں کے قافلے ، دیکھے
جہاں جہاں پہ پرندوں کے چہچہے ، دیکھے

رہیں جو رات ، اندھیروں سے برسرِ پیکار
ہوا کی زد میں ہمیشہ وہی دیئے دیکھے

سکون ، حسن کی قسمت میں ہو تو ہو ، لیکن
نصیبِ عشق میں برسوں کے رَت جگے ،دیکھے

وہ جن کا ذکر ، کتابوں میں اب نہیں ملتا
نگاہ پیرِ فلک نے وہ حادثے دیکھے
بہارِ زیست سے ہرگز نہ حظ اٹھا پائے
کہ کور چشموں کے دل میں بجھے بجھے دیکھے

شعورِ ذات ، میسر جنھیں ہوا ، سو ہوا
شعورِ ذات سے ہٹ کر بھی فلسفے دیکھے

مثالِ خانہ بدوشاں بھٹکتے پھرتے رہے
میانِ منزل و شوکت ، وہ فاصلے دیکھے

Related posts

Leave a Comment